ایس ایس پی آپریشن شفیق گجر نے 34افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے ان کا کہنا ہے کہ پہلا دھماکا خود کش اور دوسرا ریموٹ کنٹرول دھماکا تھا جبکہ ضلعی انتظامیہ نے کہا ہے کہ دونوں دھماکے خود کش تھے اور دو خود کش حملہ آوروں کے سر بھی جائے وقوع سے مل گئے ہیں۔ایدھی ذرائع نے 37افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔سی سی پی او لاہور نے دو بم دھماکوں میں 24 افرادکے جاں بحق جبکہ100 سے زائد زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے ۔ڈائیریکٹر جنرل ریسکیو آپریشن نے34افراد کے جاں بحق اور90افراد کے زخمی ہو نے کی تصدیق کی۔دھماکوں میں خواتین اوربچوں سمیت متعدد افراد زخمی ہیں، دھماکے کے بعدجائے وقوع پر آگ لگ گئی ۔ دونوں دھماکے یکے بعد دیگرے چند لمحوں کے اندر ہوئے، دھماکے انتہائی شدید تھے جس کی دور دور تک آواز سنی گئی۔پہلا دھماکا مارکیٹ کے وسط میں ایک پلازہ کے قریب جبکہ دوسرا ایک نجی بینک کے قریب ہوا۔ دھماکے کے بعد آگ لگ گئی جس نے کئی دکانوں اورپارکنگ میں کھڑی موٹر سائیکلوں کواپنی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ دھماکوں کی شدت سے آس پاس کی کئی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ امدادی ٹیمیں اور ایمبولینسیں اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں جائے وقوع پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو شیخ زید اور جناح ااور دیگر اسپتالوں میں منتقل کردیا گیا ہے،واقعے کے بعد تمام شہر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔زخمیوں میں سے بعض افراد کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ دھماکوں کے بعد افراتقری پھیل گئی جبکہ مارکیٹ کی بجلی معطل ہوگئی،مون مارکیٹ سے ملحق سڑک کو چاروں طرف سے ٹریفک کیلئے بند کردیاگیا ہے۔ ڈی سی او لاہور اور اعلیٰ حکام سمیت پولیس کی بھاری نفری بھی مون مارکیٹ پہنچ گئی ہے۔مون مارکیٹ ایک مکمل طور پر کمرشل علاقہ ہے جہاں کپڑے اور دیگر ضروریات زندگی کی دکانیں ہیں جبکہ عام طور پر یہاں رش رہتا ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد کھانے پینے کے لئے بھی مون مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد ہوتی ہے، جبکہ شام کے بعد یہاں کھانے پینے کیلئے آنے والے افراد کا رش مزید بڑھ جاتا ہے۔
15 جون 2009 - 19:30
News ID: 173847
لاہور کے علامہ اقبال ٹاؤن کی مون مارکیٹ میں ہونے والے دوبم دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد34 ہوگئی ہے۔